Friday, 4 March 2022

حالت ہوئی خراب مگر دل بھرا نہیں

 حالت ہوئی خراب مگر دل بھرا نہیں

یعنی خدا کے سامنے بھی آئینہ نہیں

تُو آخری مقام سے آگے ملا مجھے

ایسا مقام جس کی یہ دنیا جگہ نہیں

اک میں ہوں تیرے واسطے مولا سے لڑ پڑا

اک تُو ہے اپنی ذات سے آگے بڑھا نہیں

ہم خودکشی کے آخری لمحے سے جا ملے

پروردگار کچھ بھی کسی کو کہا نہیں


ابرار مظفر

No comments:

Post a Comment