Wednesday, 17 August 2022

در بیخودی کا اس لیے کھولا نہیں ابھی

 در بیخودی کا اس لیے کھولا نہیں ابھی

اک قفلِ آگہی ہے جو توڑا نہیں ابھی

ویسے تو صبح ہو چکی، میں جاگ بھی گیا

لیکن کسی کے خواب سے لوٹا نہیں ابھی

جاتے ہوئے وہ مُڑ کے نگاہیں ملائے گا

اُس کو اسی اُمید پہ روکا نہیں ابھی

جب بھی ملا تو سینے سے لگ کر وہ روئے گا

میں بھی اسی خیال سے رویا نہیں ابھی

ایسا نہیں کہ اس کے بِنا مر ہی جاؤں گا

لیکن جیوں گا کیسے یہ سوچا نہیں ابھی


فیصل فارانی

No comments:

Post a Comment