Monday, 15 November 2021

شب فراق کا قصہ تمام تر لکھ دے

 شبِ فراق کا قصہ تمام تر لکھ دے

کوئی اسے مِرے حالات سر بسر لکھ دے

کہا یہ کس نے کہ تو عیب کو ہنر لکھ دے

مگر جو بات ہو نقاد! معتبر لکھ دے

کروں گا اور میں صحرا نوردیاں کب تک

الٰہی میرے مقدر میں ایک گھر لکھ دے

سلونی شام خوشی کی تجھے میں لکھتا ہوں

مجھے سلگتی ہوئی گرم دوپہر لکھ دے

مِرا بیان حقیقت سے پھِر نہیں سکتا

وہ میرے نام پہ جتنا بھی مال و زر لکھ دے

قیامِ امن کی خاطر اگر ضروری ہے

خوشی سے قتل کا الزام میرے سر لکھ دے

شفیق شہرِ سخن میں سنہرے حرفوں سے

ہے نامِ حضرتِ زخمی بھی معتبر لکھ دے


شفیق رائے پوری

No comments:

Post a Comment