اے شبِ ہجر تِری راہ میں ہم کیا نہ بنے
صبح کا چہرہ بنے، شام کا افسانہ بنے
زندگی اتنی زیاں کار ہے، معلوم نہ تھا
سیکڑوں شہرِ تمنا تھے جو ویرانہ بنے
ایک تم ہو کہ مٹاتے رہے تاریخِ جنوں
ایک ہم ہیں کہ ہر اک دور میں دیوانہ بنے
جادۂ شب میں جلاتے رہے زخموں کے چراغ
صبح آئی تو ہمیں رات کا افسانہ بنے
کتنے شعلے تھے جو دل میں بھی ہوئے سرد شکیب
کتنے آنسو تھے جو قطرہ رہے دریا نہ بنے
شکیب ایاز
No comments:
Post a Comment