Monday, 7 February 2022

سیاست میں عجب یہ فیصلہ نادان کر لیتے ہیں

 سیاست میں عجب یہ فیصلہ نادان کر لیتے ہیں

چمن کو رہن رکھ کر کانچ کا گلدان لیتے ہیں

قدم پڑتے ہی چوکھٹ پر لکھی جاتی ہیں تحریریں

اسی سے آنے والے کا ارادہ جان لیتے ہیں

نظر جب فرشِ راہِ یار ہوتی ہے تو دل والے

قدِ موزوں کو اس کی چال سے پہچان لیتے ہیں

برائے فاصلہ دنیا کو ہم زحمت نہیں دیتے

بدن پر ہم نئی مٹی کی چادر تان لیتے ہیں

پریشاں ہم تو ہوتے ہیں، پریشان ہم نہیں کرتے

ضرورت کے تحت چہرے کا غصہ چھان لیتے ہیں

کسی بھی حال میں حُرمت کا سودا ہم نہیں کرتے

کتاب عشق رکھ کر رحل پر جزدان لیتے ہیں


شکیب ایاز

No comments:

Post a Comment