سیاست میں عجب یہ فیصلہ نادان کر لیتے ہیں
چمن کو رہن رکھ کر کانچ کا گلدان لیتے ہیں
قدم پڑتے ہی چوکھٹ پر لکھی جاتی ہیں تحریریں
اسی سے آنے والے کا ارادہ جان لیتے ہیں
نظر جب فرشِ راہِ یار ہوتی ہے تو دل والے
قدِ موزوں کو اس کی چال سے پہچان لیتے ہیں
برائے فاصلہ دنیا کو ہم زحمت نہیں دیتے
بدن پر ہم نئی مٹی کی چادر تان لیتے ہیں
پریشاں ہم تو ہوتے ہیں، پریشان ہم نہیں کرتے
ضرورت کے تحت چہرے کا غصہ چھان لیتے ہیں
کسی بھی حال میں حُرمت کا سودا ہم نہیں کرتے
کتاب عشق رکھ کر رحل پر جزدان لیتے ہیں
شکیب ایاز
No comments:
Post a Comment