Monday, 7 February 2022

ہر غم قبول کر لیا میں نے خوشی کے ساتھ

 ہر غم قبول کر لیا میں نے خوشی کے ساتھ

ہنس کر کیا نباہ غمِ زندگی کے ساتھ

ہر شخص کا مزاج ہے ہر شخص سے جدا

ملتا نہیں خیال کسی کا کسی کے ساتھ

ہر بات کیوں قبول کرے وہ دماغ کی

دل کا معاملہ بھی تو ہے آدمی کے ساتھ

جن پر رہی ہماری توجہ بھری نظر

وہ ہم سے پیش آئے سدا بے رخی کے ساتھ

مقصود امتحان ہو شاید اسے مِرا

بہتر سلوک میں نے کیا اجنبی کے ساتھ

پھیلے ہمارے ہاتھ نہ منعم کے سامنے

خود داریاں عزیز رہیں مفلسی کے ساتھ

لے کر چراغ ہاتھ میں چلتا نہیں ہوں میں

چلتے ہیں خود چراغ مِری شب روی کے ساتھ


حلیم صابر

No comments:

Post a Comment