Monday, 7 February 2022

چھاؤں تو دیتا تھا آنگن میں شجر جیسا بھی تھا

 چھاؤں تو دیتا تھا آنگن میں شجر جیسا بھی تھا

اپنا گھر تھا دوستو! ہاں اپنا گھر جیسا بھی تھا

چل پڑا تھا لے کے مجھ کو منزلوں کا اشتیاق

میں نے کب دیکھا، مرا رختِ سفر جیسا بھی تھا

راستوں کی خاک پھانکو دُھوپ میں بیٹھے ہوئے

چارہ گر تو چارہ گر تھا چارہ گر جیسا بھی تھا

ایک سایہ ابر کی صورت تھا آنگن کے لیے

اِِک پرندہ پیڑ کا دیوار و در جیسا بھی تھا

ہر طرف پھیلے سُکوتِ ظلمتِ بے نور میں

ایک امکانِ طلب تازہ سحر جیسا بھی تھا

ہُو بہُو وہ دھڑکنوں کی مثل تھا دل میں مرے

اور میری آنکھ میں میری نظر جیسا بھی تھا

چار دیواری مسیر تھی مکینوں کے لیے

تھی میسر چھت ہمیں وہ اپنا گھر جیسا بھی تھا

اپنی مرضی کے مطابق سانس تو لیتے تھے ہم

ان فضاؤں میں ہواؤں کا اثر جیسا بھی تھا

مل تو جاتا تھا وہاں مزدور کو تھوڑا بہت

تھا وہاں اِمکان میں چاہے ثمر جیسا بھی تھا

اک شجر آنگن میں تھا ابرِ بہاراں کی طرح

اِک دیا گھر میں مِرے شمس و قمر جیسا بھی تھا

اپنی اپنی چھاؤں تھی اور اپنی اپنی دُھوپ تھی

چل رہا تھا سلسلہ کارِ ہُنر جیسا بھی تھا

پھر بھی وہ حلقوم سے نیچے نہیں اُترا نبیل

ذائقہ پتھر کا قسمت کے ثمر جیسا بھی تھا


نبیل احمد

No comments:

Post a Comment