Monday, 7 February 2022

وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے

 طالبان سے قبلہ رو گفتگو


وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے

وہ جو علم سے بھی گریز پا

کریں ذکر رب کریم کا

وہ جو حکم دیتا ہے علم کا

کریں اس کے حکم سے ماورا یہ منادیاں

نہ کتاب ہو کسی ہاتھ میں

نہ ہی انگلیوں میں قلم رہے

کوئی نام لکھنے کی جانہ ہو

نہ ہو رسم اسم زناں کوئی

وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے

کریں شہر شہر منادیاں

کہ ہر ایک قدِ حیا نما کو نقاب دو

کہ ہر ایک دل کے سوال کو یہ جواب دو

نہیں چاہیے کہ یہ لڑکیاں اڑیں طائروں کی طرح بلند

نہیں چاہیے کہ یہ لڑکیاں کہیں مدرسوں کہیں دفتروں

کا بھی رخ کریں

کوئی شعلہ رو، کوئی باصفا، ہے کوئی

تو صحنِ حرم ہی اس کا مقام ہے

یہی حکم ہے یہ کلام ہے

وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے

وہ یہیں کہیں ہیں قریب میں

انہیں دیکھ لو، انہیں جان لو

نہیں ان سے کچھ بھی بعید، شہرِ زوال میں

رکھو حوصلہ، رکھو یہ یقین

کہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے

وہ ہیں کتنے چھوٹے وجود میں


 کشور ناہید

No comments:

Post a Comment