Wednesday, 15 December 2021

گھر جو لوٹے تو ملے غیر کے سامانوں میں

 گھر جو لوٹے تو ملے غیر کے سامانوں میں

پھول کچھ چھوڑ کے آئے تھے جو گلدانوں میں 

ہم پرندوں کی طرح دائمی بنجارے ہیں

شہر چُھوٹے تو مقرر ہوئے ویرانوں میں

وہ بھی ہجرت کے تکلف سے بری ہو نہ سکے 

آئے کچھ لوگ جو کعبے سے صنم خانوں میں

ان کے چہروں کو نگاہوں سے قطع مت کیجے 

جن کی پہچان رہی آئینہ سامانوں میں

میری آمد پہ ہر اک آنکھ کو حیرانی ہے 

وہ مجھے ڈھونڈنے نکلے تھے بیابانوں میں

ہم بھی تقسیم ہوئے،۔ آپ بھی تقسیم ہوئے

دونوں منہ ڈھانپ کے روتے ہیں گریبانوں میں

دیکھئے کیسے، کہاں، کس کو سزا ملتی ہے

فیصلے لکھے ہیں منصف کے گریبانوں میں


شکیب ایاز

No comments:

Post a Comment