گھر جو لوٹے تو ملے غیر کے سامانوں میں
پھول کچھ چھوڑ کے آئے تھے جو گلدانوں میں
ہم پرندوں کی طرح دائمی بنجارے ہیں
شہر چُھوٹے تو مقرر ہوئے ویرانوں میں
وہ بھی ہجرت کے تکلف سے بری ہو نہ سکے
آئے کچھ لوگ جو کعبے سے صنم خانوں میں
ان کے چہروں کو نگاہوں سے قطع مت کیجے
جن کی پہچان رہی آئینہ سامانوں میں
میری آمد پہ ہر اک آنکھ کو حیرانی ہے
وہ مجھے ڈھونڈنے نکلے تھے بیابانوں میں
ہم بھی تقسیم ہوئے،۔ آپ بھی تقسیم ہوئے
دونوں منہ ڈھانپ کے روتے ہیں گریبانوں میں
دیکھئے کیسے، کہاں، کس کو سزا ملتی ہے
فیصلے لکھے ہیں منصف کے گریبانوں میں
شکیب ایاز
No comments:
Post a Comment