دیوار سمجھتی ہے کہ در کو نہیں معلوم
جو دکھ ہے دریچے کا وہ گھر کو نہیں معلوم
وہ روز مِرے ساتھ سفر کرتی ہے، لیکن
اسبابِ سفر راہ گزر کو نہیں معلوم
دیوار گہہِ خواب میں در کیسے بنے گا
یہ کام ہے دل کا سو نظر کو نہیں معلوم
کیوں موجِ ہوا شہر میں آوارہ پھرے ہے
یہ بات کسی شاخِ شجر کو نہیں معلوم
توقیر ہے اک لفظ مگر اس کے معانی
دستار کو معلوم ہیں، سر کو نہیں معلوم
سرگرم ہے کس کس کا لہو ان کے بدن میں
اخبار کی سرخی کی خبر کو نہیں معلوم
کیوں شام و سحر پھرتا ہوں میں اس کی گلی میں
خورشید! مِرے رشکِ قمر کو نہیں معلوم
خورشید ربانی
No comments:
Post a Comment