کرب کے ایک لمحے میں لاکھ برس گزر گئے
مالک حشر! کیا کریں عمرِ دراز لے کے ہم؟
سارے علوم ہم کریں فی النار و السقر
معصومیت کی راہ میں تیر و تبر لیں ہم
رُوئے سخن بدل گیا بڑھنے لگے فاصلے
آہ سکوتِ منجمد بیٹھے ہیں ساز لے کے ہم
رقصِ شرر میں کھو گئے برق کے دل سے مل گئے
لالہ و گُل میں کِھل گئے موت کا راز لے کے ہم
شمس الرحمٰن فاروقی
No comments:
Post a Comment