Wednesday, 15 December 2021

تیری یادوں کا مجھ پہ سایا ہے

 تیری یادوں کا مجھ پہ سایا ہے

یہ مجھے چاند نے بتایا ہے

کاٹ کر پیڑ اس کی یادوں کا

میرے دل نے سکون پایا ہے

تیرے ہونٹوں کے لمس سے میں نے

چاند کو آئینہ دکھایا ہے

زندگی کے نصاب میں تنہا

ہم نے ہر بار خود کو پایا ہے

چلتے پانی کو روک کر میں نے

اک نیا حشر سا اٹھایا ہے

کون ہے جس نے یاد میں تیری

میرے جیسا سکون پایا ہے

آج وحشت کو بانٹنے کے لیے

دل نے تلوار کو اٹھایا ہے

مرتضٰی تیری یاد میں اس نے

کتنے صدموں سے جی لگایا ہے


مرتضٰی شاہین مندھرو

No comments:

Post a Comment