تیری یادوں کا مجھ پہ سایا ہے
یہ مجھے چاند نے بتایا ہے
کاٹ کر پیڑ اس کی یادوں کا
میرے دل نے سکون پایا ہے
تیرے ہونٹوں کے لمس سے میں نے
چاند کو آئینہ دکھایا ہے
زندگی کے نصاب میں تنہا
ہم نے ہر بار خود کو پایا ہے
چلتے پانی کو روک کر میں نے
اک نیا حشر سا اٹھایا ہے
کون ہے جس نے یاد میں تیری
میرے جیسا سکون پایا ہے
آج وحشت کو بانٹنے کے لیے
دل نے تلوار کو اٹھایا ہے
مرتضٰی تیری یاد میں اس نے
کتنے صدموں سے جی لگایا ہے
مرتضٰی شاہین مندھرو
No comments:
Post a Comment