تم کچھ بھی کہو میں بخدا کچھ نہیں کہتا
سچ کہتا ہوں اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہتا
دنیا ہے کہ دشنام طرازی پہ تلی ہے
اور میں کہ بجز حرفِ دعا کچھ نہیں کہتا
مجھ سے تو یہی کہتا ہے وہ کہہ کے جو سچ ہے
تم بھی تو کہو تم سے خدا کچھ نہیں کہتا
تم نے بھی تو دیکھا ہے انگاروں پہ میرا رقص
تم سے میرا نقشِ کفِ پا کچھ نہیں کہتا
پس جائے تو پھر رنگ تو لاتا ہے بہر حال
پتھر سے مگر برگِ حنا کچھ نہیں کہتا
خالد کا یہ اب حال ہے اے یارِ خوش آغاز
يا نام تِرا لیتا ہے، یا کچھ نہیں کہتا
خالد علیگ
No comments:
Post a Comment