Wednesday, 15 December 2021

تم کچھ بھی کہو میں بخدا کچھ نہیں کہتا

 تم کچھ بھی کہو میں بخدا کچھ نہیں کہتا

سچ کہتا ہوں اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہتا

دنیا ہے کہ دشنام طرازی پہ تلی ہے

اور میں کہ بجز حرفِ دعا کچھ نہیں کہتا

مجھ سے تو یہی کہتا ہے وہ کہہ کے جو سچ ہے

تم بھی تو کہو تم سے خدا کچھ نہیں کہتا

تم نے بھی تو دیکھا ہے انگاروں پہ میرا رقص

تم سے میرا نقشِ کفِ پا کچھ نہیں کہتا

پس جائے تو پھر رنگ تو لاتا ہے بہر حال

پتھر سے مگر برگِ حنا کچھ نہیں کہتا

خالد کا یہ اب حال ہے اے یارِ خوش آغاز

يا نام تِرا لیتا ہے، یا کچھ نہیں کہتا


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment