Sunday, 11 September 2022

یہ تصور ہی میری روح میں سمایا جائے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہ تصور ہی میری روح میں سمایا جائے

مجھ کو اک بار مدینے میں بلایا جائے

بند آنکھوں سے میں پیارے کا روضہ دیکھوں

ہاتھ رکھ دیں مِری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے

جن مناظر کو ترستی ہیں مِری آنکھیں

ہر وہ منظر مجھے پھر سے دکھایا جائے

جو بھی روتا ہوا پہنچا ہے درِ مولاﷺ پر

ہر وہ سائل درِ سرکارؐ سے ہنستا جائے

عشقِ محبوبؐ میں ہو جاؤں میں ایسے یارب

مجھ کو دیوانہ در آقاﷺ کا پکارا جائے

ان کے ہر عدو سے بھلا کیجیۓ کیسی نرمی

ان کے گستاخ کا سر تن سے اتارا جائے

اس راہ کو تکتا ہے بہ حسرت شاہد

شہرِ انوار کو جو بھی ہے رستہ جائے


شبیر شاہد مہروی

No comments:

Post a Comment