عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہ تصور ہی میری روح میں سمایا جائے
مجھ کو اک بار مدینے میں بلایا جائے
بند آنکھوں سے میں پیارے کا روضہ دیکھوں
ہاتھ رکھ دیں مِری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے
جن مناظر کو ترستی ہیں مِری آنکھیں
ہر وہ منظر مجھے پھر سے دکھایا جائے
جو بھی روتا ہوا پہنچا ہے درِ مولاﷺ پر
ہر وہ سائل درِ سرکارؐ سے ہنستا جائے
عشقِ محبوبؐ میں ہو جاؤں میں ایسے یارب
مجھ کو دیوانہ در آقاﷺ کا پکارا جائے
ان کے ہر عدو سے بھلا کیجیۓ کیسی نرمی
ان کے گستاخ کا سر تن سے اتارا جائے
اس راہ کو تکتا ہے بہ حسرت شاہد
شہرِ انوار کو جو بھی ہے رستہ جائے
شبیر شاہد مہروی
No comments:
Post a Comment