Monday, 20 December 2021

لفظوں کے زیوروں سے سراپا سجی ہوئی

 لفظوں کے زیوروں سے سراپا سجی ہوئی

دیکھی ہے رات میں نے غزل بولتی ہوئی

بنیاد میں رکھی گئیں صدیوں کی کلفتیں

تب جا کے عشرتوں کی عمارت کھڑی ہوئی

یہ کون میری روح کو چُھو کر گُزر گیا

ہر سانس میں ہے لمس کی خُوشبو بسی ہوئی

مصروفیت کی نذر ہوئیں خواہشیں تمام

میں سوچتا ہوں یہ بھی کوئی زندگی ہوئی

لفظوں کا ہیر پھیر کوئی فن تو ہے مگر

جذبات کے بغیر کہاں شاعری ہوئی

ظالم کرے گا اپنے گُناہوں کا اعتراف

افواہ شہر بھر میں ہے زاہد اُڑی ہوئی


زاہد وارثی

No comments:

Post a Comment