لفظوں کے زیوروں سے سراپا سجی ہوئی
دیکھی ہے رات میں نے غزل بولتی ہوئی
بنیاد میں رکھی گئیں صدیوں کی کلفتیں
تب جا کے عشرتوں کی عمارت کھڑی ہوئی
یہ کون میری روح کو چُھو کر گُزر گیا
ہر سانس میں ہے لمس کی خُوشبو بسی ہوئی
مصروفیت کی نذر ہوئیں خواہشیں تمام
میں سوچتا ہوں یہ بھی کوئی زندگی ہوئی
لفظوں کا ہیر پھیر کوئی فن تو ہے مگر
جذبات کے بغیر کہاں شاعری ہوئی
ظالم کرے گا اپنے گُناہوں کا اعتراف
افواہ شہر بھر میں ہے زاہد اُڑی ہوئی
زاہد وارثی
No comments:
Post a Comment