عشق تو عقل کے رستے میں بہت کم آیا
٭کِیٹس کا درد تھا،٭٭نِٹشے میں بہت کم آیا
اس کی آنکھوں کی کشش ہے کہ چرا لیتی ہے
جس نے دیکھا اسے اپنے میں بہت کم آیا
یہ عجب دکھ ہے کہ میں نے ہی اسے چھوڑا تھا
یہ وہ غم ہے کہ جو سننے میں بہت کم آیا
میرے اطراف بھی پھرتی ہے کہانی تیری
اور میں ہی تِرے فسانے میں بہت کم آیا
دوستا! شعر میں کیا درد کا اظہار کروں
یہ وہ دریا ہے جو کوزے میں بہت کم آیا
جس میں دو چاہنے والوں کا ملن ہوتا ہے
بس وہی سِین ڈرامے میں بہت کم آیا
اتنی وسعت سے ملا اہلِ زمانہ کو صفی
اپنا حصہ، مِرے حصے میں بہت کم آیا
صفی ربانی
*John Keats
** Friedrich Nietzsche
No comments:
Post a Comment