تمہارے حسن کا چرچا رہے گا
مگر میرا جنوں رُسوا رہے گا
میں فکرِ شعر میں کھویا ہوا ہوں
یہ دریا دور تک بہتا رہے گا
بہت رنگین ہے سانسوں کی دنیا
مگر، نابینا، نابینا رہے گا
اجالے میں کبھی آ کر بتانا
اندھیروں کا سفر کیسا رہے گا
تخیل کی کہاں تک سرحدیں ہیں
کہاں تک میرا نقشِ پا رہے گا
مقدر کا لکھا مٹتا کہاں ہے
جو میرا ہے وہی میرا رہے گا
یہ اک شوریدہ سر کی ضد ہے زاہد
یہاں گلشن نہیں صحرا رہے گا
زاہد وارثی
No comments:
Post a Comment