Wednesday, 13 April 2022

ایک وقت پہ ٹھہرا ہوں تو حیرت کیسی

 ایک وقت پہ ٹھہرا ہوں تو حیرت کیسی

ہر غم کا میں چہرہ ہوں تو حیرت کیسی

وہ اکثر مجھے درپن بھی کہا کرتا تھا

اب جو ٹوٹ کے بِکھرا ہوں تو حیرت کیسی

اپنوں کی عداوت کو تھا پھینکا خود میں

میں کنوئیں کی طرح گہرا ہوں تو حیرت کیسی

میں محبت کا سمندر تھا کبھی اس کے لیے

اب اگر دشت ہوں صحرا ہوں تو حیرت کیسی

ہر دل نے اتارا ہے کدورت میں مجھے

تیرے دل سے بھی اترا ہوں تو حیرت کیسی

درد اجڑے ہوئے لوگوں کا ہے زیور سید

میں اذیت میں جو سنورا ہوں تو حیرت کیسی


سید خرم نقوی

No comments:

Post a Comment