ایک وقت پہ ٹھہرا ہوں تو حیرت کیسی
ہر غم کا میں چہرہ ہوں تو حیرت کیسی
وہ اکثر مجھے درپن بھی کہا کرتا تھا
اب جو ٹوٹ کے بِکھرا ہوں تو حیرت کیسی
اپنوں کی عداوت کو تھا پھینکا خود میں
میں کنوئیں کی طرح گہرا ہوں تو حیرت کیسی
میں محبت کا سمندر تھا کبھی اس کے لیے
اب اگر دشت ہوں صحرا ہوں تو حیرت کیسی
ہر دل نے اتارا ہے کدورت میں مجھے
تیرے دل سے بھی اترا ہوں تو حیرت کیسی
درد اجڑے ہوئے لوگوں کا ہے زیور سید
میں اذیت میں جو سنورا ہوں تو حیرت کیسی
سید خرم نقوی
No comments:
Post a Comment