گل کھلے ہیں بہار کے دن ہیں
لطفِ پروردگار کے دن ہیں
دھوم ہے جبرِ غم کے ماروں میں
حسن کے اختیار کے دن ہیں
دام پھیلے ہوئے ہیں زلفوں کے
شوق مچلا ہے صدقے ہونے کا
وصلِ دیدارِ یار کے دن ہیں
کاش ایسے میں تم بھی آ جاتے
عشق پر اعتبار کے دن ہیں
پھر ہے دل کو تلاش دلبر کی
حسن کے اقتدار کے دن ہیں
واۓ قسمت کہ ایسے میں ساحرؔ
میں ہوں اور ہجرِ یار کے دن ہیں
ساحر بھوپالی
No comments:
Post a Comment