کپکپی چھا گئی ہنگامِ سلام آتے ہی
کھل گیا سارا بھرم دل کا مقام آتے ہی
رسمِ تعظیم کجا، دیکھتے ہی ان کی جھلک
گر گئے سجدے میں ہم وقتِ قیام آتے ہی
یا تو تھا سر بہ گریباں میں وفورِ غم سے
میری جانب وہ توجہ کی نظر تھی جو ابھی
کیسی بدلی ہے سرِ محفلِ عام آتے ہی
کیسے اب ان سے ملا جائے گا ہم سے ساحرؔ
دل دھڑکنے لگے جب ان کا پیام آتے ہی
ساحر بھوپالی
No comments:
Post a Comment