Saturday, 3 December 2016

جب بھی بزم تخیل میں آئی غزل

جب بھی بزمِ تخیل میں آئی غزل
بن کے شہنازِ فن مسکرائی غزل
حسن کی انجمن رقص کرنے لگی
عشق نے جھوم کے گنگنائی غزل
لفظ و اسلوب و لہجہ قلم بن گئے
ہر ورق پر بنی روشنائی غزل
اپنے مستوں کی سرمستیاں دیکھ کر
دیر تک بزم میں لڑکھڑائی غزل
دھوپ میں کشمکش کی تھی کشتِ سخن
ابرِ لطف و سکون بن کے چھائی غزل
دیکھ کے اس کی تہذیب کا بانکپن
گاؤں والوں کے من میں سمائی غزل
ساتھ بیکلؔ کے گیتوں کی پوشاک میں 
انجمن، انجمن، گنگنائی غزل

بیکل اتساہی

No comments:

Post a Comment