Thursday, 18 March 2021

ان کے جلوے سحاب ہیں جیسے

 ان کے جلوے سحاب ہیں جیسے

ان کے سپنے سراب ہیں جیسے

ان کی آنکھیں ہیں گویا پیمانے

جن میں ڈورے، شراب ہیں جیسے

ان کے رخسار، جیسے آتش داں

ان کے لب ہیں، گلاب ہیں جیسے

ان کی باتوں میں گو سوال سہی

ان کی نظریں، جواب ہیں جیسے

ان کی یادیں ہیں امتحاں گویا

جن کے لمحے عذاب ہیں جیسے

لے کے جن کو ہوں گنہگار سہیل

ان کے بوسے، ثواب ہیں جیسے


اقبال سہیل

No comments:

Post a Comment