Saturday, 16 October 2021

آنگن آنگن خانہ خرابی ہنستی ہے معماروں پر

 آنگن آنگن خانہ خرابی ہنستی ہے معماروں پر

پتھر کی چھت ڈھال رہے ہیں شیشے کی دیواروں پر

زخم لگے تو بس یہ جانو چوٹ پڑی نقاروں پر

آج لگا دو جان کی بازی، ٹوٹ پڑو تلواروں پر

اہلِ جنوں کی لالہ کاری، موسم کی پابند نہیں

فصلِ خزاں میں پھول کھلے ہیں زنداں کی دیواروں پر

دل کے افق سے ٹوٹ گئے ہیں کتنے سورج کتنے چاند

ٹپکے ہیں دو چار ستارے جب تیرے رخساروں پر

کہتے ہیں خوش قامت کس کو دیکھ نکل کر گلشن سے

کیسے کیسے سرو رعنا چلتے ہیں انگاروں پر

اس ساحل پر ناؤ پڑی ہے اس ساحل پر مانجھی ہے

بیچ ندی میں تیرتی لاشو پل بن جاؤ دھاروں پر


اعزاز افضل

No comments:

Post a Comment