Saturday, 16 October 2021

وا چشم تماشا لب اظہار سلا ہے

 وا چشمِ تماشا لبِ اظہار سِلا ہے

کوئی پسِ دیوار مجھے دیکھ رہا ہے

مٹی تو مِری مر بھی چکی زندہ صدا ہے

میں چپ ہوں مگر درد مِرا بول رہا ہے

اشکوں کا ہجوم آج جسے ڈھونڈ رہا ہے

وہ درد کے دریا میں کہیں ڈوب گیا ہے

وا ہونٹوں سے کیا بولوں کہ آنکھیں تو سلی ہیں 

صحراؤں میں یاروں نے مجھے چھوڑ دیا ہے 

گزری ہوئی کل کے ہوئے سکے سبھی کھوٹے 

جو آج کا سکہ ہے وہی قبلہ نما ہے 

کب دہلا ہے آفاتِ زمانہ سے مِرا دل 

طوفانوں کو آنا ہے تو دروازہ کھلا ہے 


خاطر غزنوی

No comments:

Post a Comment