کام ہر زخم نے مرہم کا کیا ہو جیسے
اب کسی سے کوئی شکوہ نہ گِلا ہو جیسے
عمر بھر عشق کو غم دیدہ نہ رکھے کیونکر
حادثہ وہ کہ ابھی کل ہی ہوا ہو جیسے
ایک مدت ہوئی دیکھا تھا جسے پہلے پہل
تیرے چہرے میں وہی چہرہ چھپا ہو جیسے
حسن کے بھید کا پا لینا نہیں ہے آساں
ہے یہ وہ راز کہ رازوں میں پلا ہو جیسے
یاد ماضی سے یہ افسردہ سی رونق دل میں
آخرِ شب کوئی دروازہ کُھلا ہو جیسے
دور تک ایک نِگہ جا کے ٹھہر جاتی ہے
وقت کا فاصلہ کچھ ڈھونڈ رہا ہو جیسے
ابو محمد سحر
No comments:
Post a Comment