Monday, 11 October 2021

اک ادھورا خواب ہے جو تعبیر کے چکر کاٹ رہا ہے

 اک ادھورا خواب ہے جو تعبیر کے چکر کاٹ رہا ہے

جیسے نِسبت والا کوئی، پِیر کے چکر کاٹ رہا ہے

کیسی یہ اک وحشت سی ہے ایک اسیر جو مدت سے

آزادی کو پا کر بھی زنجیر کے چکر کاٹ رہا ہے

کس کا نام دھیان میں آیا تعظیماً یہ جس کے لیے

عشق یہ میرا ان لکھی تحریر کے چکر کاٹ رہا ہے

پروانے کی فطرت دیکھیۓ اور انداز چاہت بھی دیکھیۓ

جوشِ جنوں میں شمع کی تصویر کے چکر کاٹ رہا ہے

عشق کے سب انداز وہی ہیں، محبتوں کے سب راز وہی

آج بھی رانجھا کوئی عہدِ وفا میں ہیر کے چکر کاٹ رہا

پھر بے رخی سے دیکھا اس نے سرِ بزم میں مجھے

پھر سینے میں کوئی بجھتی تنویر کے چکر کاٹ رہا ہے

وہ خواب و خیالوں میں میرے جب سے آ بسا ہے

اک بہتا ہوا آنسو آنکھ میں تعمیر کے چکر کاٹ رہا ہے


اسماء ہادیہ

No comments:

Post a Comment