اس سے دل کے موسم کا اندازہ ہوتا ہے
چہرہ جسم کی بستی کا دروازہ ہوتا ہے
اوس پڑوس کے ستره باغ گواہی دیتے ہیں
پھول تمہارے چھونے سے ہی تازه ہوتا ہے
چیزیں اپنی ضد سے ہی پہچانی جاتی ہیں
شور یقیناً چپ کا ہی آوازہ ہوتا ہے
وصل کے پھل میں ہلکی تُرشی اچھی لگتی ہے
ہجر کسی بے صبری کا خمیازہ ہوتا ہے
ماتھا چومنے والوں کو کیوں آنکھیں ڈانٹتی ہیں
دل کا شاید اور بھی اک دروازہ ہوتا ہے
احمد عطااللہ
No comments:
Post a Comment