Monday, 12 April 2021

اس سے دل کے موسم کا اندازہ ہوتا ہے

 اس سے دل کے موسم کا اندازہ ہوتا ہے

چہرہ جسم کی بستی کا دروازہ ہوتا ہے

اوس پڑوس کے ستره باغ گواہی دیتے ہیں

پھول تمہارے چھونے سے ہی تازه ہوتا ہے

چیزیں اپنی ضد سے ہی پہچانی جاتی ہیں

شور یقیناً چپ کا ہی آوازہ ہوتا ہے

وصل کے پھل میں ہلکی تُرشی اچھی لگتی ہے

ہجر کسی بے صبری کا خمیازہ ہوتا ہے

ماتھا چومنے والوں کو کیوں آنکھیں ڈانٹتی ہیں

دل کا شاید اور بھی اک دروازہ ہوتا ہے


احمد عطااللہ

No comments:

Post a Comment