سوال مت کرو یارو! تنقید مت کرو
ہم سے کسی جواب کی امید مت کرو
قائد جو نہ کہو ہمیں چمچہ تو مت کہو
حکومتوں سے سڑک پر شنید مت کرو
دشوار ہو چکا ہے رستوں سے اب گزر
لوگوں میں تم شعور کی تمہید مت کرو
نسلوں سے کر رہے ہیں وڈیروں کا طواف
ہم غازی، ہم مجاہد، ہمیں شہید مت کرو
محفل میں کر رہے تھے حاکم کا شکریہ
لو آ گئے خاں، فلاں، ارے ولید! مت کرو
میٹھی سی کوئی بات ذرا پیار سے کرو
مٹی ہوں اسی گاؤں کی پلید مت کرو
ہارون اشفاق
No comments:
Post a Comment