Saturday, 8 January 2022

دعا کے پھول کھلاتے ذرا نکھر جاتے

 دعا کے پھول کھلاتے، ذرا نکھر جاتے

قبولیت کی گھڑی آتی، اور مر جاتے

فنا کے خواب کئی دن سے آ رہے ہیں مجھے

میں دیکھتا ہوں پرندوں کو جھیل پر جاتے

قبولیت سے ہمیں کیا بھلا شکایت ہو

دعا ہی اونگھنے لگتی ہے عرش پر جاتے

فرشتے رات یہ کہتے رہے؛ وہ تیرا نہیں

بتانا غیر ضروری تھا،۔ بس گزر جاتے

میں خواب دیکھ چکا ہوں، تباہیوں کے خواب

مگر یہ خواب ہی تعبیر سے مُکر جاتے


احمد عطا

No comments:

Post a Comment