Tuesday, 18 August 2020

پہلے ہم اشک تھے پھر دیدۂ نمناک ہوئے

پہلے ہم اشک تھے پھر دیدۂ نمناک ہوئے
اک جوئے آب رواں ہاتھ لگی، پاک ہوئے
اور پھر سادہ دلی دل میں کہیں دفن ہوئی
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چالاک ہوئے
اور پھر شام ہوئی، رنگ اڑے جام بنے
اور پھر ذکر چھڑا، تھوڑے سے غمناک ہوئے
اور پھر آہ بھری اشک بہے، شعر کہے
اور پھر رقص کیا، دھول اڑی، خاک ہوئے
اور پھر ہم کسی پاپوش کا پیوند بنے
اور پھر اپنے بھی چرچے سر افلاک ہوئے
اور پھر یاد کیا، اسم پڑھا، پھونک دیا
اور پھر کوہ گراں بھی خس و خاشاک ہوئے

احمد عطا

No comments:

Post a Comment