Tuesday, 18 August 2020

ہماری آنکھیں بھی صاحب عجیب کتنی ہیں

ہماری آنکھیں بھی صاحب عجیب کتنی ہیں
کہ دل جو روئے تو کم بخت ہنسنے لگتی ہیں
تمہارے شہر سے چلیے کہ تنگ دستی نے
تمہارے شہر کی گلیاں بھی تنگ کر دی ہیں
یہ ہم ہیں بے ہنراں، دیکھیے ہنر مندی
جو کوئی کام کریں ہم تو پوریں جلتی ہیں
نہ اس کا وصل ملا، اور نہ روزگار یہاں
سو پہلے ہجر زدہ تھے اور اب کے ہجرتی ہیں
تو شاہ زادی کو لائیں وہ محو خواب ہے کیا
ہمیں یقیں نہیں، پریاں بھی جھوٹ بولتی ہیں

احمد عطا

No comments:

Post a Comment