کیا بتائیں کتنا لطفِ زندگی پاتا ہے دل
جب نگاہِ ناز تیری زد پہ آجاتا ہے دل
کون ہے غمخوار اپنا شامِ غم اے بے کسی
دل کو بہلاتا ہوں میں یا مجھ کو بہلاتا ہے دل
آ کے ان کی یاد کچھ تسکین دیتی ہے مجھے
ہائے، وہ منظر نہ پوچھو جب بہ حسنِ اتفاق
ملتی ہیں نظروں سے نظریں دل سے مل جاتا ہے دل
کیوں نہ سمجھوں آپ کو میں سو بہاروں کی بہار
سامنے جب آپ آتے ہیں تو کھِل جاتا ہے دل
کوئی جادہ ہے، نہ منزل ہے، نہ کچھ قیدِ مقام
اپنی دھن میں اک طرف مجھ کو لیے جاتا ہے دل
جانے کیوں اختر مری آنکھوں میں آ جاتے ہیں اشک
جب وہ رنگیں داستاں ماضی کی دہراتا ہے دل
اختر مسلمی
No comments:
Post a Comment