Tuesday, 18 August 2020

یہ ہوائیں ٹھنڈی ٹھنڈی یہ سکون بخش سائے

یہ ہوائیں ٹھنڈی ٹھنڈی یہ سکون بخش سائے
رہِ عشق کے مسافر تجھے نیند آ نہ جائے
یہ چمن، یہ تم، یہ موسم، یہ حسیں گلوں کے سائے
میرا عہدِ پارسائی کہیں پھر نہ ٹوٹ جائے
جسے لذتِ اسیری ہی ازل سے راس آئے
تِرے دامِ زلف پرخم سے کہاں نکل کے جائے
مِرا دل پناہ دے گا مِرے دل میں سر چھپائے
تِرا تیر چشمِ ساقی جو کہیں اماں نہ پائے
یہ کرم نما نگاہیں، یہ وفا نما تبسم
کوئی جیسے ہلکے ہلکے مِرے دل کو گدگدائے
مِرے دل پہ ہاتھ رکھ کر مجھے دینے والے تسکیں
کہیں دل کی دھڑکنوں سے تجھے چوٹ آ نہ جائے
یہ خلش، یہ سوزِ پنہاں، یہ جگر کے داغ تاباں
تمہیں منصفی سے کہہ دو کوئی کیسے مسکرائے
شبِ غم نکل پڑا تھا مِرے دل سے ایک نالہ
مجھے ڈر ہے ان کو یا رب کوئی آنچ آ نہ جائے
مِری شاعری سے رغبت کبھی بے سبب نہیں ہے
اسے کیا پڑی ہے اختر مِرا شعر گنگنائے

اختر مسلمی

No comments:

Post a Comment