Tuesday, 14 July 2020

کہ حسن عشق پہ قربان کر دیا جائے

پیادے بھیج کے "اعلان" کر دیا جائے
کہ حسن عشق پہ "قربان" کر دیا جائے
جو شہر والے ہیں مصروف دنیاداری میں
تو چاند گاؤں کا "مہمان" کر دیا جائے
میں جا رہا ہوں پرندے بھی ساتھ لے جاؤں
تمہارے "شہر" کو "ویران" کر دیا جائے
سنور" چکی ہے اگر "زلف" تو یہاں آؤ"
اس کو "پھر" سے "پریشان" کر دیا جائے

احمد عطاء اللہ 

No comments:

Post a Comment