پیادے بھیج کے "اعلان" کر دیا جائے
کہ حسن عشق پہ "قربان" کر دیا جائے
جو شہر والے ہیں مصروف دنیاداری میں
تو چاند گاؤں کا "مہمان" کر دیا جائے
میں جا رہا ہوں پرندے بھی ساتھ لے جاؤں
سنور" چکی ہے اگر "زلف" تو یہاں آؤ"
اس کو "پھر" سے "پریشان" کر دیا جائے
احمد عطاء اللہ
No comments:
Post a Comment