اشک آنکھوں سے دمِ ضبط رواں ہوتا ہے
جب کوئی درد حقیقت کی زباں ہوتا ہے
خون رِستا ہے تو آتی ہے گُلِ سُرخ کی یاد
زخم دیکھیں تو بہاروں کا گُماں ہوتا ہے
عشق احساسِ کم و بیش کا پابند نہیں
جب ہوس ہو تو غمِ سُود و زیاں ہوتا ہے
منظر درد نے احساس نہ رکھا باقی
دیکھ لیتے ہیں مگر ہوش کہاں ہوتا ہے
آپ کی ذرہ نوازی ہے جو اس قابل ہوں
ورنہ شاعر میں کوئی وصف کہاں ہوتا
غم جو بخشا ہے مجھے تُو نے غزل کی صورت
خون پی پی کے شب و روز جواں ہوتا ہے
فصلِ گُل میں دلِ وحشی کا چلن مت پوچھو
ایسے موسم میں تو یہ آفتِ جاں ہوتا ہے
کون انجم کے مقابل ہے سرِ بزمِ سخن
منفرد آپ کا انداز بیاں ہوتا ہے
انجم جعفری
No comments:
Post a Comment