Saturday, 9 January 2021

تجھ کو پانے کے لئے خود سے گزر تک جاؤں

 تجھ کو پانے کے لیے خود سے گزر تک جاؤں

ایسی جینے کی تمنا ہے کہ مر تک جاؤں

اب نہ شیشوں پہ گروں اور نہ شجر تک جاؤں

میں ہوں پتھر تو کسی دستِ ہنر تک جاؤں

اک دھندلکا ہوں ذرا دیر میں چھٹ جاؤں گا

میں کوئی رات نہیں ہوں جو سحر تک جاؤں

جس کے قدموں کے قصیدوں سے ہی فرصت نہ ملے

کیسے اس شخص کی تعظیم نظر تک جاؤں

گھر نے صحرا میں مجھے چھوڑ دیا تھا لا کر

اب ہو صحرا کی اجازت تو میں گھر تک جاؤں

اپنے مظلوم لبوں پر جو وہ رکھ لے مجھ کو

آہ بن کر میں دعاؤں کے اثر تک جاؤں

اے مِری راہ کوئی راہ دکھا دے مجھ کو

دھوپ اوڑھوں کہ تہہ شاخ شجر تک جاؤں


سلیم صدیقی

No comments:

Post a Comment