Saturday, 9 January 2021

کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئے

 کبھی وہ مثلِ گل مجھے مثالِ خار چاہئے 

کبھی مزاجِ مہرباں وفا شعار چاہیے 

جبینِ خود پسند کو سزائے درد یاد ہو 

سر جنونِ کوش میں خیال دار چاہیے 

فریبِ قربِ یار ہو کہ حسرتِ سپردگی 

کسی سبب سے دل مجھے یہ بے قرار چاہیے 

غمِ زمانہ جب نہ ہو غمِ وجود ڈھونڈ لوں 

کہ اک زمینِ جاں جو ہے وہ داغدار چاہیے 

وہ آزمائشِ جنوں وہ امتحانِ بے خودی 

وہ صحبتِ تباہ کن پھر ایک بار چاہیے 


تنویر انجم 

No comments:

Post a Comment