Wednesday, 16 December 2020

اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ

 اتنی قربت بھی نہیں ٹھیک ہے اب یار کے ساتھ

زخم کھا جاؤ گے کھیلو گے جو تلوار کے ساتھ

ایک آہٹ بھی مرے گھر سے ابھرتی ہے اگر

لوگ کان اپنے لگا لیتے ہیں دیوار کے ساتھ

🌍پاؤں ساکت ہیں مگر گھوم رہی ہے دنیا

زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے رفتار کے ساتھ

ایک جلتا ہوا آنسو مری آنکھوں سے گرا

بیڑیاں ٹوٹ گئیں ظلم کی جھنکار کے ساتھ

کل بھی انمول تھا میں آج بھی انمول ہوں میں

گھٹتی بڑھتی نہیں قیمت مری بازار کے ساتھ

کج کلاہی پہ نہ مغرور ہوا کر اتنا♚

سر اتر آتے ہیں شاہوں کے بھی دستار کے ساتھ

کون سا جرم خدا جانے ہوا ہے ثابت💢

مشورے کرتا ہے منصف جو گنہ گار کے ساتھ

شہر بھر کو میں میسر ہوں سوائے اس کے

جس کی دیوار لگی ہے مری دیوار کے ساتھ


سلیم صدیقی

No comments:

Post a Comment