Tuesday, 3 August 2021

اس نے بولا یار چھپا کر رکھنا تم

 اس نے بولا یار چھپا کر رکھنا تم

ہم دونوں کا پیار چھپا کر رکھنا تم

جو میری صورت سے ملتے جلتے ہوں

وہ سارے اشعار چھپا کر رکھنا تم

سیدھے ہاں مت کرنا میں مر جاؤں گا

تھوڑا یہ اقرار چھپا کر رکھنا تم

مشکل سے آتا ہے اور اڑ جاتا ہے

اس ہفتے اتوار چھپا کر رکھنا تم

بچہ ہے وہ اور بچے ضد کرتے ہیں

بچے سے بازار چھپا کر رکھنا تم

دو دن کو وہ ملنے آیا ہے تم سے

دو دن یہ آزار چھپا کر رکھنا تم

کل میری یہ غزل چھپے تو پڑھ لینا

اور پھر وہ اخبار چھپا کر رکھنا تم


بھاسکر شکلا

No comments:

Post a Comment