عشق سے مہکے ہوئے گُلزار کا
دل تمنائی ہوا ہے پیار کا
حسرتوں کی رقص گہ میری گلی
اُس کو ہے لیکن گُماں دربار کا
وہ رُکے اور مسکرا کر چل دئیے
جب سُنا گِریہ دلِ بیمار کا
آپ کے آگے سرِ تسلیم خم
فائدہ کچھ بھی نہیں تکرار کا
کھینچ رکھا ہے تمہاری یاد نے
گرد میرے دائرہ پرکار کا
راشدہ ماہین کہتے ہیں مجھے
چار سُو چرچا مِرے اشعار کا
راشدہ ماہین ملک
No comments:
Post a Comment