Tuesday, 21 December 2021

اپنے دل میں آگ لگانی پڑتی ہے

 اپنے دل میں آگ لگانی پڑتی ہے

ایسے بھی اب رات بتانی پڑتی ہے

اس کی باتیں سن کر ایسے اٹھتا ہوں

جیسے اپنی لاش اٹھانی پڑتی ہے

وہ خوابوں میں ہاتھ چھڑا کر جائے تو

نیندوں میں آواز لگانی پڑتی ہے

کیا خوشبو سے میں اس کی بچ پاؤں گا

رستہ میں جو رات کی رانی پڑتی ہے

اب جا کر کے بات سمجھ میں آئی ہے

لیکن اب کمزور جوانی پڑتی ہے


اشفاق منصوری

No comments:

Post a Comment