اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا
اور اس سے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہوا
شانِ کرم تھی یہ بھی اگر وہ جدا ہوا
کیا محنت طلب میں نہ حاصل مزا ہوا
میں اور کوئے عشق مِرے اور یہ نصیب
ذوقِ فنا، خضرؑ کی طرح رہنما ہوا
پہچانتا وہ اب نہیں دشمن کو دوست سے
کس قید سے اسیرِ محبت رہا ہوا
کیا کیا نہ اس نے پورے کئے مدعائے دل
لیکن پسند اسے دلِ بے مدعا ہوا
اس کا پتہ کسی سے نہ پوچھو، بڑھے چلو
فتنہ کسی گلی میں تو ہو گا اٹھا ہوا
پیچیدہ تھی جو سر میں ہوائے رضائے دوست
آسی مرید سلسلۂ مرتضیٰؑ ہوا
آسی غازیپوری
ﺁﺳﯽ ﻏﺎﺯی پوﺭﯼ
No comments:
Post a Comment