یہ موسم نیاز ہے
برستے رنگ
اور بھیگتے یہ سبز پیرہن
غزالِ دشتِ جاں دلاں
یہ کیسا اہتمام ہے؟
کنارِ چشمِ نم جو یہ سجا ہے
کوئی خواب ہے؟
کہ خواب کا سراب ہے؟
غزالِ دشتِ رائیگاں
بتا یہ آ ج کیا ہوا؟
کہ سبز بخت ہجر کے سحاب
اپنے راستے بدل گئے
زمیں پہ سرخ، سبز، کاسنی بھنور کے رقص میں
دمکتی پتیوں کے جسم گھل گئے
ہوا نے شاخ شاخ سے
گلاب توڑ توڑ کے
وہ راستے سجا دئیے
جو انتظار کی ملول دھول سے خراب تھے
شفق پگھل کے
چمپئی شہاب رنگ دھڑکنوں میں ڈھل گئی
دلاں سنا؟
یہ موسمِ نیاز ہے
لہو میں اک سنہری آگ جل گئی
تو کیا ہوا؟
جو وقت اپنے بحرِ بے کنار میں اتر گیا
سو کیا کریں؟جو مہلتوں کے بادبان کُھل گئے
غزالِ دشتِ رائیگاں
تجھے اس ایک سانس کی نوید ہو
یہ ایک گھونٹ ساعتِ مراد
با نصیب ہو
یہ موسمِ نیاز ہے
دلاں
تجھے نوید ہو
نسیم سید
No comments:
Post a Comment