راستے اب بے تکلف ہو رہے ہیں کس لیے
کٹ گیا سارا سفر تو اور جُوتے گِھس لیے
کون جھیلے گا کہ جیسے جھیلتا آیا ہوں میں
آگ برساتی نگاہیں اور لہجے بِس لیے
ہر طرف سے مل رہی ہیں کیوں مبارکبادیاں
اپنا رونا رو لیا کیا، زخم کُھل کر رِس لیے
اب نہ جانے کس جزیرے پر گریں گے منہ کے بل
پھر کسی کا حسن ہم سے کہہ رہا ہے پھسلیے
ہائے، کیا تھے لوگ وہ جو تشنگی کو پی گئے
اور زمین و آسماں میں خامشی سے پِس لیے
ڈھونڈئیے مریخ پر بھی زندگی لیکن حضور
ان کا کیا جو مر چلے یاں زندگی کی حِس لیے
فکر میں کچھ رنگ آمیزی ضروری ہے شہیر
خال و خد اس کے سنبھالے ہوں ابھی تک اس لیے
شہیر تہامی
No comments:
Post a Comment