Tuesday, 5 October 2021

خیال اس کا مجھے ہر سفر میں رہتا ہے

 خیال اس کا مجھے ہر سفر میں رہتا ہے

کہیں بھی جاؤں مدینہ نظر میں رہتا ہے

وہ ہو عروج کا موسم کہ ہو زوال کی رُت

تِرے حوالے سے پتہ شجر میں رہتا ہے

سُلگی دُھوپ مِرا امتحان کیا لے گی

وہ چھاؤں بن کے مِری دوپہر میں رہتا ہے

کسی دُکھے ہوئے دل میں اسے تلاش کرو

وہ اپنے چاہنے والوں کے گھر میں رہتا ہے

ندامتوں میں بھی روشن ہے اک اُمیدِ کرم

کوئی چراغ مِری چشمِ تر میں رہتا ہے

اسی کی دَین ہے جاوید ہر حسیں تخلیق

تصور اس کا ہی دستِ ہُنر میں رہتا ہے


ملک زادہ جاوید

No comments:

Post a Comment