خیال اس کا مجھے ہر سفر میں رہتا ہے
کہیں بھی جاؤں مدینہ نظر میں رہتا ہے
وہ ہو عروج کا موسم کہ ہو زوال کی رُت
تِرے حوالے سے پتہ شجر میں رہتا ہے
سُلگی دُھوپ مِرا امتحان کیا لے گی
وہ چھاؤں بن کے مِری دوپہر میں رہتا ہے
کسی دُکھے ہوئے دل میں اسے تلاش کرو
وہ اپنے چاہنے والوں کے گھر میں رہتا ہے
ندامتوں میں بھی روشن ہے اک اُمیدِ کرم
کوئی چراغ مِری چشمِ تر میں رہتا ہے
اسی کی دَین ہے جاوید ہر حسیں تخلیق
تصور اس کا ہی دستِ ہُنر میں رہتا ہے
ملک زادہ جاوید
No comments:
Post a Comment