Thursday, 11 March 2021

خدا کرے کہ تماشا بنے کہانی کا

 خدا کرے کہ تماشا بنے کہانی کا

دماغ آئے ٹھکانے مِری جوانی کا

ابھی سنا نہ مجھے اگلی رات کی وحشت

ابھی تو بار اٹھانا ہے رائیگانی کا

دہن کےکانٹوں نےچپ چاپ پی لیا اس کو

چھِلا ہوا تھا گَلہ خود بھی نيلے پانی کا

اڑائے خاک مجھے بے ردا کرے کوئی

کہ سر بريدہ نظر آیا میرے جانی کا

تُو رزقِ عشق کی تقسیم ٹھیک ٹھیک سے کر

مجھے پتہ ہے تِری ساری بے ایمانی کا

عقیقِ زرد نے مجھ کو بھی زرد کر ڈالا

سو اب نشاں بھی نہیں ہے تیری نشانی کا


ردا زینب شاہ

No comments:

Post a Comment