Thursday, 18 March 2021

ہر شخص اپنے قد کے برابر لگے مجھے

 ہر شخص اپنے قد کے برابر لگے مجھے

یہ بات سوچ سوچ کے ہی ڈر لگے مجھے

اس نے فقط کہا تھا کہ؛ میں آپ کا نہیں

پھر اس کے بعد  پھُول بھی پتھر لگے مجھے

جس دن تمہارے خط کا مجھے انتظار تھا

اس دن تمـام پنچھی کبوتر لگے مجھے

تب مجھ پہ یہ کھُلا کہ بہت سادہ دل ہوں میں

جب دوستوں کے  ہاتھ سے خنجر لگے مجھے

اس آسماں کو مجھ سے ہے کیا دُشمنی علی

بھیجوں اگر دُعا بھی تو  سر پر لگے مجھے


علی قیصر رومی 

No comments:

Post a Comment