Thursday, 18 March 2021

یہاں تو صرف کپاسوں کے رنگ اڑنے لگے

 یہاں تو صرف کپاسوں کے رنگ اُڑنے لگے

ادھر غلیظ مشینوں کے رنگ اڑنے لگے

غریب شخص کی شہرت حسد اگاتی ہے

کنول کھِلا تو گُلابوں کے رنگ اڑنے لگے

ہمارے پاؤں کے جھڑنے کی بات پھیل گئی

تمام شہر کی سڑکوں کے رنگ اڑنے لگے

جھلک رہی تھی کفن سے سفید کلکاری

بڑے بزرگوں کی قبروں کے رنگ اڑنے لگے

کئی لبوں کی عیادت کو ملتوی کر کے

وہ ہنس پڑا تو دِلاسوں کے رنگ اڑنے لگے

دُعا کو ہاتھ اُٹھائے تو رزق آن گِرا

پھر اس کے بعد جو کاسوں رنگ اڑنے لگے


علی زیرک

No comments:

Post a Comment