بے سبب کیسے بھلا دھوپ میں سایہ ہوا ہے
میں نے اک پیڑ سرِ راہ لگایا ہوا ہے
یہ پرندہ جو مِرے صحن میں آ بیٹھا ہے
یہ کسی اور کے پنجرے سے اُڑایا ہوا ہے
دل تو جلتا ہے کسی دردِ جدائی سے مِرا
اور ہونٹوں کو بھی سگرٹ سے جلایا ہوا ہے
ایک مدت ہوئی وہ چاند نہ دیکھا میں نے
ایک مدت سے یونہی خود کو جگایا ہوا ہے
علی قیصر رومی
No comments:
Post a Comment