Sunday, 14 March 2021

بے سبب کیسے بھلا دھوپ میں سایہ ہوا ہے

 بے سبب کیسے بھلا دھوپ میں سایہ ہوا ہے 

میں نے اک پیڑ سرِ راہ لگایا ہوا ہے

یہ پرندہ جو مِرے صحن میں آ بیٹھا ہے 

یہ کسی اور کے پنجرے سے اُڑایا ہوا ہے

دل تو جلتا ہے کسی دردِ جدائی سے مِرا 

اور ہونٹوں کو بھی سگرٹ سے جلایا ہوا ہے

ایک مدت ہوئی وہ چاند نہ دیکھا میں نے

ایک مدت سے یونہی خود کو جگایا ہوا ہے


علی قیصر رومی

No comments:

Post a Comment