Sunday, 14 March 2021

سبھی حسین نظاروں پہ خاک ڈال گیا

 سبھی حسین نظاروں پہ خاک ڈال گیا

تمہارا جانا بہاروں پہ خاک ڈال گیا

نہ جانے کتنے ستارے تھے آنکھ میں روشن

پھر ایک چاند، ستاروں پہ خاک ڈال گیا 

مِرا سکون، نظر، قلب، خواب آنکھوں کے

تیرا ہجر ان چاروں پہ خاک ڈال گیا

ہوا ہوئے میرا صدقہ اتارنے والے

یہ وقت کیسے سہاروں پہ خاک ڈال گیا

نبیؐ کا دستِ مبارک تھا سر پہ خیبر میں

علیؑ اکیلا ہزاروں پہ خاک ڈال گیا


دانش اعجاز

No comments:

Post a Comment