سبھی حسین نظاروں پہ خاک ڈال گیا
تمہارا جانا بہاروں پہ خاک ڈال گیا
نہ جانے کتنے ستارے تھے آنکھ میں روشن
پھر ایک چاند، ستاروں پہ خاک ڈال گیا
مِرا سکون، نظر، قلب، خواب آنکھوں کے
تیرا ہجر ان چاروں پہ خاک ڈال گیا
ہوا ہوئے میرا صدقہ اتارنے والے
یہ وقت کیسے سہاروں پہ خاک ڈال گیا
نبیؐ کا دستِ مبارک تھا سر پہ خیبر میں
علیؑ اکیلا ہزاروں پہ خاک ڈال گیا
دانش اعجاز
No comments:
Post a Comment